جمعہ، 18 جولائی، 2025

سورۃ البقرة 2:282 کا اُردو ترجمہ اور تفسیر بمعہ تصویر | Quran4ever

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيۡنٍ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى فَٱكۡتُبُوهُۚ وَلۡيَكۡتُب بَّيۡنَكُمۡ كَاتِبُۢ بِٱلۡعَدۡلِۚ وَلَا يَأۡبَ كَاتِبٌ أَن يَكۡتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ ٱللَّهُۚ فَلۡيَكۡتُبۡ وَلۡيُمۡلِلِ ٱلَّذِي عَلَيۡهِ ٱلۡحَقُّ وَلۡيَتَّقِ ٱللَّهَ رَبَّهُۥ وَلَا يَبۡخَسۡ مِنۡهُ شَيۡـٔٗاۚ فَإِن كَانَ ٱلَّذِي عَلَيۡهِ ٱلۡحَقُّ سَفِيهًا أَوۡ ضَعِيفًا أَوۡ لَا يَسۡتَطِيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَلۡيُمۡلِلۡ وَلِيُّهُۥ بِٱلۡعَدۡلِۚ وَٱسۡتَشۡهِدُواْ شَهِيدَيۡنِ مِن رِّجَالِكُمۡۖ فَإِن لَّمۡ يَكُونَا رَجُلَيۡنِ فَرَجُلٞ وَٱمۡرَأَتَانِ مِمَّن تَرۡضَوۡنَ مِنَ ٱلشُّهَدَآءِ أَن تَضِلَّ إِحۡدَىٰهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحۡدَىٰهُمَا ٱلۡأُخۡرَىٰۚ وَلَا يَأۡبَ ٱلشُّهَدَآءُ إِذَا مَا دُعُواْۚ وَلَا تَسۡـَٔمُوٓاْ أَن تَكۡتُبُوهُ صَغِيرًا أَوۡ كَبِيرًا إِلَىٰٓ أَجَلِهِۦۚ ذَٰلِكُمۡ أَقۡسَطُ عِندَ ٱللَّهِ وَأَقۡوَمُ لِلشَّهَٰدَةِ وَأَدۡنَىٰٓ أَلَّا تَرۡتَابُوٓاْ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً حَاضِرَةٗ تُدِيرُونَهَا بَيۡنَكُمۡ فَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ أَلَّا تَكۡتُبُوهَاۗ وَأَشۡهِدُوٓاْ إِذَا تَبَايَعۡتُمۡۚ وَلَا يُضَآرَّ كَاتِبٞ وَلَا شَهِيدٞۚ وَإِن تَفۡعَلُواْ فَإِنَّهُۥ فُسُوقُۢ بِكُمۡۗ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ وَيُعَلِّمُكُمُ ٱللَّهُۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ

ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم ایک مقرر مدت تک کسی قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو اور تمہارے درمیان کسی لکھنے والے کو انصاف کے ساتھ (معاہدہ) لکھنا چاہئے اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اسے اللہ نے سکھایا ہے تو اسے لکھ دینا چاہئے اور جس شخص پر حق لازم آتا ہے وہ لکھاتا جائے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور اس حق میں سے کچھ کمی نہ کرے پھر جس پر حق آتا ہے اگر وہ بے عقل یا کمزور ہو یا لکھوا نہ سکتا ہو تو اس کا ولی انصاف کے ساتھ لکھوا دے اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ بنالوپھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ان گواہوں میں سے (منتخب کرلو) جنہیں تم پسند کرو تاکہ (اگر) ان میں سے ایک عورت بھولے تو دوسری اسے یاد دلادے، اور جب گواہوں کو بلایا جائے تو وہ آنے سے انکار نہ کریں اور قرض چھوٹا ہو یا بڑا اسے اس کی مدت تک لکھنے میں اکتاؤ نہیں۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے اوراس میں گواہی خوب ٹھیک رہے گی اور یہ اس سے قریب ہے کہ تم (بعد میں) شک میں نہ پڑو (ہر معاہدہ لکھا کرو) مگر یہ کہ کوئی ہاتھوں ہاتھ سودا ہوجس کا تم آپس میں لین دین کرو تو اس کے نہ لکھنے میں تم پر کوئی حرج نہیں اور جب خرید و فروخت کرو تو گواہ بنالیا کرو اور نہ کسی لکھنے والے کوکوئی نقصان پہنچایا جائے اور نہ گواہ کو (یانہ لکھنے والا کوئی نقصان پہنچائے اور نہ گواہ ) اور اگر تم ایسا کرو گے تو یہ تمہاری نافرمانی ہوگی اور اللہ سے ڈرو اور اللہ تمہیں سکھاتا ہے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔

سورۃ البقرة 2:282 کا اُردو ترجمہ اور تفسیر بمعہ تصویر | Quran4ever

تفسیر:

‎{اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى:جب تم ایک مقرر مدت تک کسی قرض کا لین دین کرو۔} اس آیت میں تجارت اور باہمی لین  دین کا اہم اصول بیان کیا گیا ہے اور مجموعی طور پر آیت میں یہ احکام دئیے گئے ہیں : ( 1 )… جب ادھار کا کوئی معاملہ ہو، خواہ قرض کا لین دین ہو یا خریدوفروخت کا، رقم پہلے دی ہو اور مال بعد میں لینا ہے یا مال ادھار پر دیدیا اور رقم بعد میں وصول کرنی ہے، یونہی دکان یا مکان کرایہ پر لیتے ہوئے ایڈوانس یا کرایہ کا معاملہ ہو، اس طرح کی تمام صورتوں میں معاہدہ لکھ لینا چاہیے۔ یہ حکم واجب نہیں لیکن اس پر عمل کرنا بہت سی تکالیف سے بچاتا ہے۔ ہمارے زمانے میں تو اس حکم پر عمل کرنا انتہائی اہم ہو چکا ہے کیونکہ دوسروں کا مال دبا لینا، معاہدوں سے مکر جانا اور کوئی ثبوت نہ ہونے کی صورت میں اصل رقم کے لازم ہونے سے انکار کرنا ہر طرف عام ہوچکا ہے۔ لہٰذا جو اپنی عافیت چاہتا ہے وہ اس حکم پر ضرور عمل کرلے ورنہ بعد میں صرف پچھتانا ہی نصیب ہوگا۔ اسی لئے آیت کے درمیان میں فرمایا کہ ’’ اور قرض چھوٹا ہو یا بڑا اسے اس کی مدت تک لکھنے میں اکتاؤ نہیں۔ ( 2 )… معاہدہ انصاف کے ساتھ لکھنا چاہیے، کسی قسم کی کوئی کمی بیشی یا ہیرا پھیری نہ کی جائے۔ اَن پڑھ آدمی کے ساتھ اس چیز کا زیادہ اندیشہ ہوتا ہے۔ ( 3 )… اگر کسی کو خود لکھنا نہیں آتا، بچہ ہے، یا انتہائی بوڑھا یا نابینا وغیرہ تو دوسرے سے لکھوا لے اور جسے لکھنے کا کہا جائے اسے لکھنے سے انکار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ لکھنا لوگوں کی مدد کرنا ہے اور لکھنے والے کا اس میں کوئی نقصان بھی نہیں تو مفت کا ثواب کیوں چھوڑے؟ ( 4 )… لکھنے میں یہ چاہیے کہ جس پر ادائیگی لازم آرہی ہے وہ لکھے یا وہ لکھوائے۔ ( 5 )… لین دین کا معاہدہ لکھنے کے بعد اس پر گواہ بھی بنالینے چاہئیں تاکہ بوقت ِ ضرورت کام آئیں۔گواہ دو مرد یا ایک مرد اور دوعورتیں ہونی چاہئیں۔ ( 6 )… گزشتہ احکام قرض اور ادھار کے حوالے سے تھے، اگر ہاتھوں ہاتھ کا معاملہ ہے یعنی رقم دی اور سودا لے لیا تو اس میں لکھنے کی حاجت نہیں جیسے عموماً دکانوں پر جاکر ہم رقم دے کر چیز خرید لیتے ہیں اوروہاں لکھا نہیں جاتا۔ ہاں اپنے حساب کتاب کیلئے بِل وغیرہ بنالینا مناسب ہے۔یونہی کوئی چیز وارنٹی پر ہوتی ہے تو بِل بنوایا جاتا ہے کہ بعد میں اُسی کی بنیاد پر وارنٹی استعمال ہوتی ہے۔ ( 7 )… آیت میں لفظ ’’ یُضَآرَّ ‘‘ آیا ہے۔ عربی کے اعتبار سے اسے معروف اور مجہول دونوں معنوں میں لیا جاسکتا ہے۔ ایک صورت یعنی مجہول کے اعتبار سے معنیٰ ہوگا کہ کاتبوں اور گواہوں کو ضرر یعنی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کاتب اور گواہ اپنی ضرورتوں میں مشغول ہوں تو انہیں اس وقت لکھنے پر مجبور کیا جائے، ان سے ان کا کام چھڑوایا جائے یا کاتب کو لکھنے کا معاوضہ نہ دیا جائے یا گواہ دوسرے شہر سے آیا ہو اور اسے سفر کا خرچہ نہ دیا جائے۔ دوسری صورت یعنی معروف پڑھنے میں معنیٰ یہ ہوگا کہ کاتب اور گواہ لین دین کرنے والوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔ اس کی صورت یہ ہوگی کہ فرصت اورفراغت کے باوجود نہ آئیں یا لکھنے میں کوئی گڑبڑ کریں۔ ( 8 )… آیت کے اس حصے ’’ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ ‘‘ میں خریدوفروخت کرتے ہوئے گواہ بنالینے کا حکم ہے اور یہ حکم مستحب ہے۔ گواہی کے احکام: یہاں آیت میں گواہ کا مسئلہ بھی بیان کیا گیاہے، اس کی مناسبت سے گواہی کے چند احکام بیان کئے جاتے ہیں۔ ( 1 )… گواہ کے لیے آزاد، عاقل، بالغ، اور مسلمان ہونا شرط ہے۔ کفار کی گواہی صرف کفار پر مقبول ہے۔ ( 2 )… تنہا عورتوں کی گواہی معتبر نہیں خواہ وہ چار ہی کیوں نہ ہوں مگروہ معاملات جن پر مرد مطلع نہیں ہوسکتے جیسا کہ بچہ جننا اور عورتوں کے خاص معاملات ان میں ایک عورت کی گواہی بھی مقبول ہے۔ ( 3 )… حدودو قصاص میں عورتوں کی گواہی بالکل معتبر نہیں صرف مردوں کی شہادت ضروری ہے، اس کے سوا اور معاملات میں ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی بھی مقبول ہے۔ ( مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۲ ، ص ۱۴۴) گواہی دینا فرض اور چھپانا ناجائز ہے: اس آیت میں فرمایا گیا کہ ’’جب گواہوں کو بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں ‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ گواہی دینا فرض ہے، لہٰذا جب مُدّعی گواہوں کو طلب کرے تو انہیں گواہی کا چھپانا جائز نہیں۔ یہ حکم حدود کے سوا اور معاملات میں ہے، حدود میں گواہ کوبتانے اور چھپانے دونوں کا اختیار ہے بلکہ چھپانا افضل ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی حدیث شریف میں ہے ، سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا :جو مسلمان کی پردہ پوشی کرے اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ ( ابن ماجہ، کتاب الحدود، باب الستر علی المؤمن۔۔۔ الخ، ۳ / ۲۱۸ ، الحدیث: ۲۵۴۴) لیکن چوری کے معاملے میں مال لینے کی گواہی دینا واجب ہے تاکہ جس کا مال چوری کیا گیا ہے اس کا حق تَلف نہ ہو، البتہ گواہ اتنی احتیاط کرسکتا ہے کہ چوری کا لفظ نہ کہے اور گواہی میں یہ کہنے پر اِکتفا کرے کہ یہ مال فلاں شخص نے لیا۔ ||

{اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى: جب تم ایک مقرر مدت تک کسی قرض کا لین دین کرو۔} اس آیت میں تجارت اور باہمی لین  دین کا اہم اصول بیان کیا گیا ہے اور مجموعی طور پر آیت میں یہ احکام دئیے گئے ہیں :

(1)…جب ادھار کا کوئی معاملہ ہو، خواہ قرض کا لین دین ہو یا خریدوفروخت کا، رقم پہلے دی ہو اور مال بعد میں لینا ہے یا مال ادھار پر دیدیا اور رقم بعد میں وصول کرنی ہے، یونہی دکان یا مکان کرایہ پر لیتے ہوئے ایڈوانس یا کرایہ کا معاملہ ہو، اس طرح کی تمام صورتوں میں معاہدہ لکھ لینا چاہیے۔ یہ حکم واجب نہیں لیکن اس پر عمل کرنا بہت سی تکالیف سے بچاتا ہے۔ ہمارے زمانے میں تو اس حکم پر عمل کرنا انتہائی اہم ہو چکا ہے کیونکہ دوسروں کا مال دبا لینا، معاہدوں سے مکر جانا اور کوئی ثبوت نہ ہونے کی صورت میں اصل رقم کے لازم ہونے سے انکار کرنا ہر طرف عام ہوچکا ہے۔ لہٰذا جو اپنی عافیت چاہتا ہے وہ اس حکم پر ضرور عمل کرلے ورنہ بعد میں صرف پچھتانا ہی نصیب ہوگا۔ اسی لئے آیت کے درمیان میں فرمایا کہ ’’ اور قرض چھوٹا ہو یا بڑا اسے اس کی مدت تک لکھنے میں اکتاؤ نہیں۔

(2)…معاہدہ انصاف کے ساتھ لکھنا چاہیے، کسی قسم کی کوئی کمی بیشی یا ہیرا پھیری نہ کی جائے۔ اَن پڑھ آدمی کے ساتھ اس چیز کا زیادہ اندیشہ ہوتا ہے۔

(3)…اگر کسی کو خود لکھنا نہیں آتا، بچہ ہے، یا انتہائی بوڑھا یا نابینا وغیرہ تو دوسرے سے لکھوا لے اور جسے لکھنے کا کہا جائے اسے لکھنے سے انکار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ لکھنا لوگوں کی مدد کرنا ہے اور لکھنے والے کا اس میں کوئی نقصان بھی نہیں تو مفت کا ثواب کیوں چھوڑے؟

(4)…لکھنے میں یہ چاہیے کہ جس پر ادائیگی لازم آرہی ہے وہ لکھے یا وہ لکھوائے۔

(5)…لین دین کا معاہدہ لکھنے کے بعد اس پر گواہ بھی بنالینے چاہئیں تاکہ بوقت ِ ضرورت کام آئیں۔گواہ دو مرد یا ایک مرد اور دوعورتیں ہونی چاہئیں۔

(6)…گزشتہ احکام قرض اور ادھار کے حوالے سے تھے، اگر ہاتھوں ہاتھ کا معاملہ ہے یعنی رقم دی اور سودا لے لیا تو اس میں لکھنے کی حاجت نہیں جیسے عموماً دکانوں پر جاکر ہم رقم دے کر چیز خرید لیتے ہیں اوروہاں لکھا نہیں جاتا۔ ہاں اپنے حساب کتاب کیلئے بِل وغیرہ بنالینا مناسب ہے۔یونہی کوئی چیز وارنٹی پر ہوتی ہے تو بِل بنوایا جاتا ہے کہ بعد میں اُسی کی بنیاد پر وارنٹی استعمال ہوتی ہے۔

(7)…آیت میں لفظ ’’یُضَآرَّ‘‘ آیا ہے۔ عربی کے اعتبار سے اسے معروف اور مجہول دونوں معنوں میں لیا جاسکتا ہے۔

ایک صورت یعنی مجہول کے اعتبار سے معنیٰ ہوگا کہ کاتبوں اور گواہوں کو ضرر یعنی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کاتب اور گواہ اپنی ضرورتوں میں مشغول ہوں تو انہیں اس وقت لکھنے پر مجبور کیا جائے، ان سے ان کا کام چھڑوایا جائے یا کاتب کو لکھنے کا معاوضہ نہ دیا جائے یا گواہ دوسرے شہر سے آیا ہو اور اسے سفر کا خرچہ نہ دیا جائے۔ دوسری صورت یعنی معروف پڑھنے میں معنیٰ یہ ہوگا کہ کاتب اور گواہ لین دین کرنے والوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔ اس کی صورت یہ ہوگی کہ فرصت اورفراغت کے باوجود نہ آئیں یا لکھنے میں کوئی گڑبڑ کریں۔

(8)…آیت کے اس حصے  ’’وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ ‘‘ میں خریدوفروخت کرتے ہوئے گواہ بنالینے کا حکم ہے اور یہ حکم مستحب ہے۔

  گواہی کے احکام:

          یہاں آیت میں گواہ کا مسئلہ بھی بیان کیا گیاہے، اس کی مناسبت سے گواہی کے چند احکام بیان کئے جاتے ہیں۔

(1)… گواہ کے لیے آزاد، عاقل، بالغ، اور مسلمان ہونا شرط ہے۔ کفار کی گواہی صرف کفار پر مقبول ہے۔

(2)… تنہا عورتوں کی گواہی معتبر نہیں خواہ وہ چار ہی کیوں نہ ہوں مگروہ معاملات جن پر مرد مطلع نہیں ہوسکتے جیسا کہ بچہ جننا اور عورتوں کے خاص معاملات ان میں ایک عورت کی گواہی بھی مقبول ہے۔

(3)…حدودو قصاص میں عورتوں کی گواہی بالکل معتبر نہیں صرف مردوں کی شہادت ضروری ہے، اس کے سوا اور معاملات میں ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی بھی مقبول ہے۔(مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۲، ص۱۴۴)

گواہی دینا فرض اور چھپانا ناجائز ہے:

            اس آیت میں فرمایا گیا کہ ’’جب گواہوں کو بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں ‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ گواہی دینا فرض ہے، لہٰذا جب مُدّعی گواہوں کو طلب کرے تو انہیں گواہی کا چھپانا جائز نہیں۔ یہ حکم حدود کے سوا اور معاملات میں ہے، حدود میں گواہ کوبتانے اور چھپانے دونوں کا اختیار ہے بلکہ چھپانا افضل ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی حدیث شریف میں ہے ، سرکارِ دوعالم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا :جو مسلمان کی پردہ پوشی کرے اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ (ابن ماجہ، کتاب الحدود، باب الستر علی المؤمن۔۔۔ الخ، ۳ / ۲۱۸، الحدیث: ۲۵۴۴)

             لیکن چوری کے معاملے میں مال لینے کی گواہی دینا واجب ہے تاکہ جس کا مال چوری کیا گیا ہے اس کا حق تَلف نہ ہو، البتہ گواہ اتنی احتیاط کرسکتا ہے کہ چوری کا لفظ نہ کہے اور گواہی میں یہ کہنے پر اِکتفا کرے کہ یہ مال فلاں شخص نے لیا۔

مزید معلومات کے لیے رابطہ قائم کریں: www.quran4ever.com

سورۃ البقرة 2:281 کا اُردو ترجمہ اور تفسیر بمعہ تصویر | Quran4ever

وَٱتَّقُواْ يَوۡمٗا تُرۡجَعُونَ فِيهِ إِلَى ٱللَّهِۖ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ

ترجمہ: اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر ہر جان کو اس کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

سورۃ البقرة 2:281 کا اُردو ترجمہ اور تفسیر بمعہ تصویر | Quran4ever

تفسیر:

‎{وَ اتَّقُوْا یَوْمًا:اور اس دن سے ڈرو۔} اس آیت میں قیامت کے دن سے ڈرایا جارہا ہے کہ اس دن سے ڈرو جس میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹایا جائے گا اور اس دن لوگوں کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، نہ بلاوجہ ان کی نیکیاں گھٹائی جائیں اورنہ بدیاں بڑھائی جائیں گی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ یہ آیت سب سے آخری آیت ہے جو حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نازل ہوئی، اس کے بعد حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ 21روز دنیا میں تشریف فرما رہے اور اس کے علاوہ ایک قول یہ ہے کہ 9راتیں اور ایک قول یہ ہے کہ 7دن دنیا میں تشریف فرما رہے۔ ( بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۱ ، ۱ / ۵۷۷ ، خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۱ ، ۱ / ۲۱۹ ، ملتقطاً ) البتہ امام شعبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے یہ روایت کی ہے کہ سب سے آخری آیت ’’ آیت رِبا ‘‘ نازل ہوئی۔ ( خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۱ ، ۱ / ۲۱۹) ||

{وَ اتَّقُوْا یَوْمًا: اور اس دن سے ڈرو۔} اس آیت میں قیامت کے دن سے ڈرایا جارہا ہے کہ اس دن سے ڈرو جس میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹایا جائے گا اور اس دن لوگوں کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، نہ بلاوجہ ان کی نیکیاں گھٹائی جائیں اورنہ بدیاں بڑھائی جائیں گی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ یہ آیت سب سے آخری آیت ہے جو حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نازل ہوئی، اس کے بعد حضورِ اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ 21روز دنیا میں تشریف فرما رہے اور اس کے علاوہ ایک قول یہ ہے کہ 9راتیں اور ایک قول یہ ہے کہ 7دن دنیا میں تشریف فرما رہے۔(بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۱، ۱ / ۵۷۷، خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۱، ۱ / ۲۱۹، ملتقطاً)

البتہ امام شعبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے حضرت عبد اللہ  بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے یہ روایت کی ہے کہ سب سے آخری آیت ’’ آیت رِبا ‘‘ نازل ہوئی۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۱، ۱ / ۲۱۹)

مزید معلومات کے لیے رابطہ قائم کریں: www.quran4ever.com

سورۃ البقرة 2:280 کا اُردو ترجمہ اور تفسیر بمعہ تصویر | Quran4ever

وَإِن كَانَ ذُو عُسۡرَةٖ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيۡسَرَةٖۚ وَأَن تَصَدَّقُواْ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ

ترجمہ: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو۔

سورۃ البقرة 2:280 کا اُردو ترجمہ اور تفسیر بمعہ تصویر | Quran4ever

تفسیر:

‎{وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر مقروض تنگدست ہو۔} یعنی تمہارے قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا۔ ( خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۰ ، ۱ / ۲۱۸) قرضدار کو مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل: اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے۔ احادیث میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ ا س کے 5 فضائل درجِ ذیل ہیں : ( 1 )… حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے  ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے۔ ( مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص ۸۴۵ ، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳)) ( 2 )… حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے  ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا۔ ( ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر۔۔۔ الخ، ۳ / ۵۲ ، الحدیث: ۱۳۱۰) ( 3 )… حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے  فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے۔ ( بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲ ، الحدیث: ۲۰۷۶ ) ( 4 ) … حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے  ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو۔ ( مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، ۹ / ۹۸ ، الحدیث: ۲۳۴۱۳ ، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص ۸۴۳ ، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰)) ( 5 )… اور صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ ( مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص ۸۴۴ ، الحدیث: ۲۹(۱۵۶۰)) امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور   مجوسی قرضدار: امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’منقول ہے کہ ایک مجوسی پر امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کی وصولی کے لئے ا س مجوسی کے گھر کی طرف گئے۔ جب  اس  کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جوتے پر نجاست لگ گئی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے (نجاست چھڑانے کی غرض سے) اپنے جوتے کو جھاڑا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ا س عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار کو لگ گئی۔ یہ دیکھ کر آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی اکھڑے گی ۔ اسی پریشانی کے عالم میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دروازہ بجایا تو ایک لونڈی باہر نکلی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے  اس سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ دروازے پر موجود ہے۔ وہ مجوسی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آیا اور ا س نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنے قرض کا مطالبہ کریں گے، اس لئے اس نے آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی۔ امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں تو قرض سے بھی بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُُ نے دیوار پر نجاست لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟ (یہ سن کر) اس مجوسی نے عرض کی :میں (دیوارکی صفائی کرنے کی) ابتداء اپنے آپ کو پاک کرنے سے کرتا ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔ ( تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک یوم الدین، ۱ / ۲۰۴) قرض کی ادائیگی کے لئے دعا: حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک مکاتب غلام آیا اور عرض کی میں اپنی کتابت (کا مال) اداء کرنے سے عاجز آگیا ہوں ، میری کچھ مدد فرمائیے۔آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کیا میں تجھے وہ کلمے نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے (اور ان کلمات کی برکت یہ ہے کہ ) اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے ادا کرا دے ۔تم یہ پڑھا کرو ’’ اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ ‘‘ یعنی اے اللہ ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے تو کافی ہوجا، اورمجھے اپنی مہربانی سے اپنے سوا سے بے پرواہ کردے۔ ( ترمذی، احادیث شتی، ۱۱۰ - باب، ۵ / ۳۲۹ ، الحدیث: ۳۵۷۴) ||

{وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر مقروض تنگدست ہو۔} یعنی تمہارے قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۰، ۱ / ۲۱۸)

قرضدار کو مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے۔ احادیث میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ ا س کے5فضائل درجِ ذیل ہیں :

(1)… حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے  ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ  تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے۔(مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳))

(2)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے  ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا۔(ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر۔۔۔ الخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)

(3)…حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے  فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )

(4) حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے  ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو۔(مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، ۹ / ۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰))

(5)… اور صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ  تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔   (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۴، الحدیث: ۲۹(۱۵۶۰))

امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  اور   مجوسی قرضدار:

            امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’منقول ہے کہ ایک مجوسی پر امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کی وصولی کے لئے ا س مجوسی کے گھر کی طرف گئے۔ جب  اس  کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جوتے پر نجاست لگ گئی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے (نجاست چھڑانے کی غرض سے) اپنے جوتے کو جھاڑا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ا س عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار کو لگ گئی۔ یہ دیکھ کر آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی اکھڑے گی ۔ اسی پریشانی کے عالم میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دروازہ بجایا تو ایک لونڈی باہر نکلی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے  اس سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ دروازے پر موجود ہے۔ وہ مجوسی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آیا اور ا س نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنے قرض کا مطالبہ کریں گے، اس لئے اس نے آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی۔ امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں تو قرض سے بھی بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُُ   نے دیوار پر نجاست لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟ (یہ سن کر) اس مجوسی نے عرض کی :میں (دیوارکی صفائی کرنے کی) ابتداء اپنے آپ کو پاک کرنے سے کرتا ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔ (تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک یوم الدین، ۱ / ۲۰۴)

قرض کی ادائیگی کے لئے دعا:

             حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک مکاتب غلام آیا اور عرض کی میں اپنی کتابت (کا مال) اداء کرنے سے عاجز آگیا ہوں ، میری کچھ مدد فرمائیے۔آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کیا میں تجھے وہ کلمے نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے (اور ان کلمات کی برکت یہ ہے کہ ) اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے ادا کرا دے ۔تم یہ پڑھا کرو ’’اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ‘‘ یعنی اے اللہ ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے تو کافی ہوجا، اورمجھے اپنی مہربانی سے اپنے سوا سے بے پرواہ کردے۔(ترمذی، احادیث شتی، ۱۱۰- باب، ۵ / ۳۲۹، الحدیث: ۳۵۷۴)

مزید معلومات کے لیے رابطہ قائم کریں: www.quran4ever.com

سورۃ البقرة 2:279 کا اُردو ترجمہ اور تفسیر بمعہ تصویر | Quran4ever

فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ وَإِن تُبۡتُمۡ فَلَكُمۡ رُءُوسُ أَمۡوَٰلِكُمۡ لَا تَظۡلِمُونَ وَلَا تُظۡلَمُونَ

ترجمہ: پھر اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سے لڑائی کا یقین کرلو اور اگر تم توبہ کرو تو تمہارے لئے اپنا اصل مال لینا جائز ہے۔ نہ تم کسی کو نقصان پہنچاؤ اورنہ تمہیں نقصان ہو۔

سورۃ البقرة 2:279 کا اُردو ترجمہ اور تفسیر بمعہ تصویر | Quran4ever

تفسیر:

‎{فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ:تو اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سے لڑائی کا یقین کرلو۔} سود کی حرمت کا حکم نازل ہوچکا، اس کے بعد بھی جو سودی لین دین جاری رکھے گا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے جنگ کا یقین کرلے۔ یہ شدید ترین وعید ہے ،کس کی مجال کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے  لڑائی کا تصور بھی کرے چنانچہ جن اصحاب کا سودی معاملہ تھا انہوں نے اپنے سودی مطالبات چھوڑ دئیے اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے لڑائی کی ہمیں کیا تاب ۔ یہ کہہ کر وہ تائب ہوگئے۔ ( خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۷۹ ، ۱ / ۲۱۲ ) لیکن آج کل کے نام نہاد مسلمان دانشوروں کا حال یہ ہے کہ وہ توبہ کی بجائے آگے سے خود اللہ تعالیٰ کو اعلانِ جنگ کررہے ہیں اور سود کی اہمیت و ضرورت پر کتابیں ، آرٹیکل، مضامین اور کالم لکھ کر ورق سیاہ کررہے ہیں۔ دو گناہوں پر اعلانِ جنگ دیا گیا : خیال رہے کہ دو گناہوں پر اعلانِ جنگ دیا گیا ہے۔ ( 1 ) سود لینے پر جیسا کہ یہاں آیت میں بیان ہوا۔ ( 2 ) اللہ تعالیٰ کے ولی سے عداوت رکھنے پر، جیسا کہ بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے  فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’جو میرے کسی ولی سے عداوت رکھے تو میں نے اس سے جنگ کا اعلان کردیا۔ ( بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع، ۴ / ۲۴۸ ، الحدیث: ۶۵۰۲ ) ‎{وَ اِنْ تُبْتُمْ:اور اگر تم توبہ کرو۔} ارشاد فرمایا کہ اگر تم توبہ کرو تو جو تمہارا اصل دیا ہوا قرض ہے وہ لینا تمہارے لئے جائز ہے اور اس کا مطالبہ کرسکتے ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ سود حرام ہونے سے پہلے جو سود لیا گیا وہ حلال تھا، وہ رقم اصلِ قرض سے نہ کٹے گی بلکہ اب پورا قرض لینا جائز ہوگا۔ ‎{لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ:نہ تم کسی کو نقصان پہنچاؤ اور نہ تمہیں نقصان ہو۔} یعنی نہ تو مقروض سے زیادہ لے کر اس پر تم ظلم کرو اور نہ اصل قرضے کی رقم سے محروم ہوکر خود مظلوم بنو۔ ظلم کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے: یہ آیت اگرچہ سود کے حوالے سے ہے لیکن عمومی زندگی میں بھی شریعت اور عقل کا تقاضا یہ ہے کہ نہ ظلم کیا جائے اور نہ ظلم برداشت کیا جائے یعنی ظلم کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ظلم کو برداشت کرنا ظالم کو مزید جَری کرتا ہے۔ ہاں جہاں عَفْو و درگزر کی صورت بنتی ہو وہاں اسے اختیار کیا جائے۔ شریعت کا قاعدہ ہے ’’ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ ‘‘ نہ نقصان پہنچاؤ اور نہ نقصان برداشت کرو۔ ( ابن ماجہ، کتاب الاحکام، باب من بنی فی حقہ ما یضرّ بجارہ، ۳ / ۱۰۶ ، الحدیث: ۲۳۴۰ ) ||

{فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ: تو اللہ اور اللہ  کے رسول کی طرف سے لڑائی کا یقین کرلو۔} سود کی حرمت کا حکم نازل ہوچکا، اس کے بعد بھی جو سودی لین دین جاری رکھے گا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    سے جنگ کا یقین کرلے۔  یہ شدید ترین وعید ہے ،کس کی مجال کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   سے  لڑائی کا تصور بھی کرے چنانچہ جن اصحاب کا سودی معاملہ تھا انہوں نے اپنے سودی مطالبات چھوڑ دئیے اور عرض کیا کہ اللہ  تعالیٰ اور اس کے رسول  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے لڑائی کی ہمیں کیا تاب ۔ یہ کہہ کر وہ تائب ہوگئے۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۷۹، ۱ / ۲۱۲)

             لیکن آج کل کے نام نہاد مسلمان دانشوروں کا حال یہ ہے کہ وہ توبہ کی بجائے آگے سے خود اللہ تعالیٰ کو اعلانِ جنگ کررہے ہیں اور سود کی اہمیت و ضرورت پر کتابیں ، آرٹیکل، مضامین اور کالم لکھ کر ورق سیاہ کررہے ہیں۔

 دو گناہوں پر اعلانِ جنگ دیا گیا :

            خیال رہے کہ دو گناہوں پر اعلانِ جنگ دیا گیا ہے۔ (1) سود لینے پر جیسا کہ یہاں آیت میں بیان ہوا۔ (2) اللہ تعالیٰ کے ولی سے عداوت رکھنے پر، جیسا کہ بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے  فرمایا ’’اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’جو میرے کسی ولی سے عداوت رکھے تو میں نے اس سے جنگ کا اعلان کردیا۔(بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع،۴ / ۲۴۸، الحدیث: ۶۵۰۲)

{وَ اِنْ تُبْتُمْ: اور اگر تم توبہ کرو۔} ارشاد فرمایا کہ اگر تم توبہ کرو تو جو تمہارا اصل دیا ہوا قرض ہے وہ لینا تمہارے لئے جائز ہے اور اس کا مطالبہ کرسکتے ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ سود حرام ہونے سے پہلے جو سود لیا گیا وہ حلال تھا، وہ رقم اصلِ قرض سے نہ کٹے گی بلکہ اب پورا قرض لینا جائز ہوگا۔

{لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ: نہ تم کسی کو نقصان پہنچاؤ اور نہ تمہیں نقصان ہو۔} یعنی نہ تو مقروض سے زیادہ لے کر اس پر تم ظلم کرو اور نہ اصل قرضے کی رقم سے محروم ہوکر خود مظلوم بنو۔

ظلم کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے:

            یہ آیت اگرچہ سود کے حوالے سے ہے لیکن عمومی زندگی میں بھی شریعت اور عقل کا تقاضا یہ ہے کہ نہ ظلم کیا جائے اور نہ ظلم برداشت کیا جائے یعنی ظلم کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ظلم کو برداشت کرنا ظالم کو مزید جَری کرتا ہے۔ ہاں جہاں عَفْو و درگزر کی صورت بنتی ہو وہاں اسے اختیار کیا جائے۔ شریعت کا قاعدہ ہے’’ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ‘‘ نہ نقصان پہنچاؤ اور نہ نقصان برداشت کرو۔  (ابن ماجہ، کتاب الاحکام، باب من بنی فی حقہ ما یضرّ بجارہ،  ۳ / ۱۰۶، الحدیث: ۲۳۴۰)

مزید معلومات کے لیے رابطہ قائم کریں: www.quran4ever.com

سورۃ البقرة 2:278 کا اُردو ترجمہ اور تفسیر بمعہ تصویر | Quran4ever

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ

ترجمہ: اے ایمان والو! اگر تم ایمان والے ہو تواللہ سے ڈرو اور جو سودباقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو۔

سورۃ البقرة 2:278 کا اُردو ترجمہ اور تفسیر بمعہ تصویر | Quran4ever

تفسیر:

‎{اِتَّقُوا اللّٰهَ:اللہ سے ڈرو۔} اس آیت میں ایمان والے کہہ کر مخاطب کیا اور ایمان کے ایک اہم تقاضے یعنی تقویٰ کا حکم دیا پھر تقویٰ کی روح یعنی حرام سے بچنے کا فرمایا اور حرام سے بچنے میں ایک کبیرہ گناہ سود کا تذکرہ کیا۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ اگر سود کے حرام ہونے سے پہلے مقروض پر سود لازم ہو گیا تھا اور اب تک کچھ سود لے لیا تھا اور کچھ باقی تھا کہ یہ سود کے حرام ہونے کا حکم آگیا تو جو سود اس سے پہلے لیا تھا وہ واپس نہ کیا جائے گا لیکن آئندہ بقایا سود نہ لیا جائے گا۔ شانِ نزول: یہ آیت ان اصحاب کے حق میں نازل ہوئی جو سود کی حرمت نازل ہونے سے قبل سودی لین دین کرتے تھے اور ان کی کافی بھاری سودی رقمیں دوسروں کے ذمہ باقی تھیں اس میں حکم دیا گیا کہ سود کی حرمت نازل ہونے کے بعد سابقہ بقیہ سود لینے کی بھی اجازت نہیں۔ ( خازن،البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۷۸ ، ۱ / ۲۱۷ ) ||

{اِتَّقُوا اللّٰهَ: اللہ سے ڈرو۔} اس آیت میں ایمان والے کہہ کر مخاطب کیا اور ایمان کے ایک اہم تقاضے یعنی تقویٰ کا حکم دیا پھر تقویٰ کی روح یعنی حرام سے بچنے کا فرمایا اور حرام سے بچنے میں ایک کبیرہ گناہ سود کا تذکرہ کیا۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ اگر سود کے حرام ہونے سے پہلے مقروض پر سود لازم ہو گیا تھا اور اب تک کچھ سود لے لیا تھا اور کچھ باقی تھا کہ یہ سود کے حرام ہونے کا حکم آگیا تو جو سود اس سے پہلے لیا تھا وہ واپس نہ کیا جائے گا لیکن آئندہ بقایا سود نہ لیا جائے گا۔ شانِ نزول: یہ آیت ان اصحاب کے حق میں نازل ہوئی جو سود کی حرمت نازل ہونے سے قبل سودی لین دین کرتے تھے اور ان کی کافی بھاری سودی رقمیں دوسروں کے ذمہ باقی تھیں اس میں حکم دیا گیا کہ سود کی حرمت نازل ہونے کے بعد سابقہ بقیہ سود لینے کی بھی اجازت نہیں۔(خازن،البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۷۸، ۱ / ۲۱۷)

مزید معلومات کے لیے رابطہ قائم کریں: www.quran4ever.com

سورۃ البقرة 2:277 کا اُردو ترجمہ اور تفسیر بمعہ تصویر | Quran4ever

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ لَهُمۡ أَجۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ

ترجمہ: اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے، بڑے گنہگار کوپسند نہیں کرتا۔ بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

سورۃ البقرة 2:277 کا اُردو ترجمہ اور تفسیر بمعہ تصویر | Quran4ever

تفسیر:

‎{یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا:اللہ سود کو مٹاتا ہے۔} اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور سود خورکو برکت سے محروم کرتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن  عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سود خورکا نہ صدقہ قبول کرے، نہ حج، نہ جہاد، نہ رشتے داروں سے حسنِ سلوک۔ ( تفسیر قرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۷۶ ، ۲ / ۲۷۴ ، الجزء الثالث ) اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے جبکہ صدقہ و خیرات کو زیادہ کرتا ہے، دنیا میں اس میں برکت پیدا فرماتا ہے اور آخرت میں اس کا اجرو ثواب بڑھاتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ( ۳۹) ‘‘ ( روم: ۳۹ ) ترجمۂ کنزُالعِرفان :اور جو تم اللہ کی رضا چاہتے ہوئے زکوٰۃ دیتے ہو تو وہی لوگ (اپنے مال)بڑھانے والے ہیں۔ اور صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جو شخص کھجور برابر حلال کمائی سے صدقہ کرے اور اللہ حلال ہی کو قبول فرماتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس صدقے کو قبول فرماتا ہے پھر اسے اُس کے مالک کے لئے پرورش کرتا ہے جیسے تم میں کوئی اپنے بچھڑے کی تربیّت کرتا ہے یہاں تک کہ وہ صدقہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔ ( بخاری، کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ من کسب طیّب، ۱ / ۴۷۶ ، الحدیث: ۱۴۱۰ ) ||

{یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا: اللہ سود کو مٹاتا ہے۔} اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور سود خورکو برکت سے محروم کرتا ہے۔ حضرت عبداللہ  بن  عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ اللہ  تعالیٰ سود خورکا نہ صدقہ قبول کرے، نہ حج، نہ جہاد، نہ رشتے داروں سے حسنِ سلوک۔ (تفسیر قرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۷۶، ۲ / ۲۷۴، الجزء الثالث)

             اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے جبکہ صدقہ و خیرات کو زیادہ کرتا ہے، دنیا میں اس میں برکت پیدا فرماتا ہے اور آخرت میں اس کا اجرو ثواب بڑھاتا ہے چنانچہ اللہ  تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ(۳۹)‘‘(روم: ۳۹)

ترجمۂ       کنزُالعِرفان:اور جو تم اللہ کی رضا چاہتے ہوئے زکوٰۃ دیتے ہو تو وہی لوگ (اپنے مال)بڑھانے والے ہیں۔

             اور صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جو شخص کھجور برابر حلال کمائی سے صدقہ کرے اور اللہ  حلال ہی کو قبول فرماتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس صدقے کو قبول فرماتا ہے پھر اسے اُس کے مالک کے لئے پرورش کرتا ہے جیسے تم میں کوئی اپنے بچھڑے کی تربیّت کرتا ہے یہاں تک کہ وہ صدقہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔  (بخاری، کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ من کسب طیّب، ۱ / ۴۷۶، الحدیث: ۱۴۱۰)

مزید معلومات کے لیے رابطہ قائم کریں: www.quran4ever.com

سورۃ البقرة 2:282 کا اُردو ترجمہ اور تفسیر بمعہ تصویر | Quran4ever

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيۡنٍ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى فَٱكۡتُبُوهُۚ وَلۡيَكۡتُب بَّيۡنَكُمۡ كَاتِبُۢ ...