فَمَنۡ خَافَ مِن مُّوصٖ جَنَفًا أَوۡ إِثۡمٗا فَأَصۡلَحَ بَيۡنَهُمۡ فَلَآ إِثۡمَ عَلَيۡهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
ترجمہ: پھر جس کو وصیت کرنے والے کی طرف سے جانبداری یا گناہ کا اندیشہ ہوتو وہ ان کے درمیان صلح کرادے تو اس پر کچھ گناہ نہیں ۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
تفسیر:
{فَمَنْ خَافَ:تو جسے اندیشہ ہو۔} اگر کسی عالم یا حاکم یا وصی یا رشتے داروغیرہ کو معلوم ہو کہ مرنے والا وصیت میں کسی پر زیادتی کر رہا ہے یا شرعی احکام کی پابندی نہیں کررہا تو مرنے والے کو سمجھا بجھا کر وصیت درست کرا دے تو یہ شخص گنہگارنہیں بلکہ اپنے نیک عمل کی وجہ سے ثواب کا مستحق ہوگا۔ یونہی اگر فوت ہونے والا تو غلط وصیت کرگیالیکن بعد میں کوئی حاکم یا عالم یا رشتے داروغیرہ یہ لوگ مُوصٰی لہ یعنی جس کے حق میں وصیت کی گئی اس میں اور وارثوں میں شرع کے موافق صلح کرادے تو گنہگار نہیں بلکہ مستحقِ ثواب ہوسکتا ہے۔ ||
{فَمَنْ خَافَ: تو جسے اندیشہ ہو۔} اگر کسی عالم یا حاکم یا وصی یا رشتے داروغیرہ کو معلوم ہو کہ مرنے والا وصیت میں کسی پر زیادتی کر رہا ہے یا شرعی احکام کی پابندی نہیں کررہا تو مرنے والے کو سمجھا بجھا کر وصیت درست کرا دے تو یہ شخص گنہگارنہیں بلکہ اپنے نیک عمل کی وجہ سے ثواب کا مستحق ہوگا۔ یونہی اگر فوت ہونے والا تو غلط وصیت کرگیالیکن بعد میں کوئی حاکم یا عالم یا رشتے داروغیرہ یہ لوگ مُوصٰی لہ یعنی جس کے حق میں وصیت کی گئی اس میں اور وارثوں میں شرع کے موافق صلح کرادے تو گنہگار نہیں بلکہ مستحقِ ثواب ہوسکتا ہے۔
مزید معلومات کے لیے رابطہ قائم کریں: www.quran4ever.com
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں